رانگ کال
قسط 3
صباء نے ضد پکڑلی کہ اسے اس لڑکی زینب سے ملنا ہے ۔۔۔حمید صاحب اسے ہاسپٹل لے گئے صباء نے زینب کے بھائی سہیل کو بتایا کہ وہ زینب کی فین ہے جو کہ سچ ہی تھا صباء بھی اس گروپ میں تھی جہاں زینب لکھا کرتی تھی۔۔۔زینب اب بہتر حالت میں تھی وہ بس بے ہوش ہوئی تھی ۔۔۔احتیاطا اس کا معدہ واش کردیا گیا تھا تاکہ جو بھی مٹی وغیرہ اندر گئی کو ہو وہ باقی نہ رہے۔۔۔
صباء نے اس کی ہمت کو سراہا کہ وہ کتنے اعتماد سے بیٹھی ہوئی ہے جبکہ خود صباء کا تو نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا۔۔۔تنہائی ملتے ہی صباء نے اپنا تعارف کروایا گروپ کا حوالہ دیا اور اپنے اور عباد کے بارے میں سب زینب کو بتادیا ۔۔۔زینب چونکی لیکن اس نے ظاہر نہ کیا ۔۔۔اور جب صباء نے رکشے والے چاچا کا ذکر کیا تو زینب اس بار اپنے تاثرات چھپا نہیں سکی ۔۔۔
" وہ تو شکر ہے وہ چاچا اللہ کے نیک بندے تھے وہ وہیں رک گئے ہوں گے اور انہوں نے ہی مجھے ہسپتال پہنچایا "
زینب کے ذہن کے پردے پہ وہ ہی رکشے والا ابھرا جو اسے قبرستان لے کر گیا تھا۔۔۔اور اسے سمجھایا بھی تھا کہ وہ قبرستان نہ جائے۔۔۔لیکن اس نے بس صباء کا ہاتھ تھام کر اتنا کہا
" دیکھو صباء ایک وقت آتا ہے جب ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک ہوجاتا ہے میں امید کرتی ہوں کہ تم اب کبھی ایسی غلطی نہیں دہراؤگی "
صباء کو تھوڑا محسوس ہوا کہ یہ خود بھی تو اسی چکر میں وہاں گئی تھی اور مجھے سمجھارہی ہے خیر غلط بھی نہیں کہہ رہی وہ تو جب بھائی نے فون آن کیا تو وہ فارمیٹ ہوا وا تھا ۔۔کیا پتہ میں شاید اس سے دوبارہ کانٹیکٹ کرلیتی کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔
صباء کو سوچ میں گم دیکھ کر زینب نے کہا "ایک نئی زندگی تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔اس نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا اللہ اس سے بدلہ لے گا ۔۔۔اس دن ان راہگیروں نے اللہ نے ہی بھیجا تھا ۔۔۔اور وہ شور سن کر بھاگ گیا ۔۔۔اس کی سچائی جو بھی ہے جلد سب کے سامنے ہوگی ان شاء اللہ"
زینب کی سماعتوں میں وہ جھینگروں کی آواز ایک ہیولے کا خود پہ تیزی سے مٹی ڈالنا پھر قدموں کا شور اور اس کا بھاگ جانا سب گھوم گیا اس نے جھر جھری لی اور خود کو مضبوط کیا۔۔
سہیل بھائی کے ساتھ پولیس انسپیکٹر اندر داخل ہوئے زینب نے صباء کو اشارہ کیا کہ تم اب جاؤ وہ نہیں چاہتی تھی کہ صباء کو اس کیس میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔
اس آسیبی قبرستان کے اطراف سے تین اور لڑکیوں کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی تھیں۔۔۔مگر ان کے گھر والے کسی قسم کی کاروائی میں شامل ہونے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔یہ چوتھا واقعہ تھا جو زینب کی شکل میں سامنے آیا تھا ۔۔۔اور اس بار اس علاقے کا انسپیکٹر بھی بدل چکا تھا وہ اس کیس میں خاص دلچسپی لے رہا تھا۔۔۔
رائٹر گروپ میں ایک جوان شاعر ساحر نے دبنگ اینٹری ماری تھی ۔۔۔تمام شاعری کے دلداہ اس کے دیوانے تھے ۔۔۔بسمہ نے بھی گروپ کچھ ہی دن پہلے جوائن کیا تھا ۔۔۔وہ بہت شوخ چنچل اور حاضر جواب لڑکی تھی۔۔۔ہر پوسٹ پہ مزے مزے کے کمنٹس دینا ۔۔خاص کر لڑکوں کی پوسٹ پہ۔۔۔وہ جوابی کمنٹس بہت انجوائے کرتی تھی اور جس سے زیادہ بات ہوتی اسے فرینڈ ریکیئوسٹ بھیج دیتی جب لڑکی خود ہی فرینڈ بننے کو تیار ہو تو اور کیا چاہیئے ۔۔۔
گروپ میں اس کے فرینڈز بڑھتے جارہے تھے ۔۔۔اور آرام سے اس کے واٹس ایپ تک بھی رسائی پاچکے تھے ۔۔۔وہ بہت اعتماد سے کمنٹس میں سب کے سامنے ہی کہہ دیتی تھی کہ میری ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کریں پلیز ۔۔۔کافی لوگ پیٹھ پیچھے اس پہ باتیں بناتے کہ کیسی لڑکی ہے لیکن اس کی شوخ چنچل فطرت کی وجہ سے مرد ہوں یا خواتین سب ہی اس کے سرکل میں شامل تھے ۔۔۔وہ شاعر ساحر کو بھی بہت کمنٹ کرتی مگر ساحر کی عادت تھی وہ کسی کے کمنٹ کا ریپلائی نہیں کرتا نہ ہی فرینڈ ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کرتا بس ہر کمنٹ پہ انگوٹھے کا نشان لگا کر شکریہ ادا کردیا کرتا تھا۔۔۔
بسمہ نے بارہا ساحر کو کمنٹس میں کہا کہ پلیز سر میری ریکیئوسٹ ایکسیپٹ کریں مگر وہ ان دیکھا کرجاتا۔۔۔اسے گروپ میں سے ہی ایک لڑکے حمزہ نے فرینڈ ریکیئوسٹ بھیجی اس نے ایسکیپٹ کرلی ۔۔۔کچھ دن بعد حمزہ سے اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔۔۔اور بات واٹس ایپ تک چلی گئی۔۔۔
مگر واٹس ایپ پہ اسکا پروفائل نام عباد دیکھ کر اس نے سوال کیا تو حمزہ نے کہا یہی میرا اصلی نام ہے بہت خاص دوستوں کو پتہ ہے ۔۔۔۔
وہ ابھی کسی سے چیٹ کر رہی تھی کہ عباد کی آتی کال دیکھ کر مسکرائی اور ریسیو کرکے ایک ادا سے کہا
" کیا حکم ہے میرے آقا "
آقا کنیز سے ملنا چاہتا ہے ...بسمہ بہت خوش ہوئی اور جوابا کہا ۔۔۔میرے آقا بلائیں اور میں حاضر نہ ہوں ۔۔۔آپ بس حکم کریں۔۔۔
جوابا عباد نے جو اسے ایڈریس دیا وہ کوئی عجیب سی جگہ تھی ۔۔۔وہ اگلے دن وقت مقررہ پہ گھر سے نکلی دو رکشے والوں کو تو جگہ ہی سمجھ نہ آئی۔۔پھر ایک چاچا کا رکشہ کھڑا نظر آیا ۔۔۔چاچا نے ایڈریس دیکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمجھایا
" بٹیا یہ تو پرانہ قبرستان ہے آپ اس وقت مغرب کے وقت کہاں جارہی ہیں"
" اوہو چاچا آپ سے جتنا کہا ہے اتنا کریں پلیز "
وہ کہہ کر رکشے میں بیٹھ گئی۔۔۔اور قبرستان روانہ ہوگئی جہاں ایک کھلی قبر اس کا انتظار کرہی تھی۔۔
جاری ہے
Post a Comment