رانگ کال۔۔۔
تین دن سے ایک ان نون نمبر سے اسے مسلسل کالز آرہی تھیں۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی احتیاط پسند لڑکی تھی ۔۔۔ان نون نمبر پہ باتیں کرنا اس کا پرانہ مشغلہ تھا ۔۔مگر ابھی اس کا ایک نیا دوست بنا تھا تو وہ کیسے کسی انجان کے ساتھ روابط بڑھالیتی۔۔
مگر اس نمبر کی پابندی سے آتی کالز کے ساتھ جب اسے ایک خوبصورت نظم مسج میں بھیجی گئ تو اسے پڑھ کر وہ رہ نہ سکی اور جواب میں لکھ ڈالا
" بہت اعلی زبردست "
ریپلائی آیا ۔۔۔
" اعلی لوگوں کے لیئے اعلی ہی لفظ استعمال کیئے جاتے ہیں "
وہ خوشی سے کھل اٹھی ۔۔۔اٹھلا کر پوچھا ۔۔
"دوستی کی شرط لگائی ہے کسی سے یا ایسے ہی نمبر ملالیا"
" دوستی تو ہوچکی ۔۔اس کے لیئے شرط ہی نہیں خلوص کی ضرورت ہوتی ہے "
" اررے واہ ایسے کیسے دوستی ہوگئی میں تو آپکو جانتی بھی نہیں"
اس نے اپنی طرف سے تھوڑا فاصلہ رکھنے کی کوشش کی ورنہ اندر سے اسے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
".اگر دوستی نہ ہوتی تو میری نظم پہ واہ کے بجائے نمبر بلاک ہوتا ۔۔۔"
وہ چپ رہی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ایس ایم ایس آیا ۔۔۔میرا یہی نمبر واٹس ایپ پہ ہے ۔۔۔
وہ فورا واٹس ایپ گئی تو ایک سنجیدہ مگر پرکشش لڑکے کی تصویر تھی ۔۔۔اسے وہ اچھا لگا ۔۔۔مگر اسی وقت اسکے موجودہ بوائے فرینڈ کی کال آنے لگی ۔۔اس نے ریسیو کرکے کہا
".شونا تھوڑا بزی ہوں تھوڑی دیر میں بات کرتی ہوں "
اگلا واٹس ایپ اس انجان کو کیا
" یہ تصویر آپکی ہے؟ "
" جی "
آگے سے بس اتنا ہی جواب آیا۔۔۔وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اگلی کیا بات کرے ۔۔۔کہ انجان کا واٹس آیپ آیا ۔۔۔
" عباد نام ہے میرا"
اس نے جواب دیا
" حباء"
".خیر یہ تو آپکا نام نہیں ہے پر مان لیتے ہیں "
وہ حیران ہوئی کہ اسے کیسے پتہ چلا تھوڑی پرہشان بھی ہوئی کہ کوئی جاننے ولا تو نہیں۔۔
" میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ نام یہ تصویر آپکی اپنی ہے "
" یقین تو آپ کر چکی ہیں۔۔جب ہی تو مجھے بلاک نہیں کیا"
اس نے پھر اعتماد سے جواب دیا۔۔۔
اس پوری رات اس نے عباد سے باتیں کی اور صبح تک اپنی تصویر بمع اصلی نام جو صباء تھا وہ اسے بھیج چکی تھی۔۔۔اتنی جلدی وہ کسی لڑکے کو نمبر نہیں دیتی تھی ۔۔گر عباد میں کچھ تھا کہ دل ہقین کرنے کو چاہتا تھا ۔۔۔
ایک ہفتہ اسی طرح واٹس ایپ پہ بات کرتے کرتے ان کی کال پہ بات شروع ہوگئی۔۔۔لیکن ہمیشہ کا عباد کرتا ۔۔۔کیونکہ جب وہ ملاتی نمبر ناٹ ریسپانڈنگ جاتا۔۔۔جب بھی یہ بات اس نے عباد کو کہی وہ کچھ نہ کچھ کہہ۔کر ٹال جاتا ۔۔۔
پچھلے بوائے فرینڈ کو وہ بلاک کرچکی تھی۔۔۔اسے لگتا تھا شاید اسے اب کسی کی ضرورت نہ رہے ۔۔۔عباد میں کچھ خاص تھا ۔۔۔ایک دن صباء نے بہت بے تابی سے عباد سے ملنے کی خواہش کی ۔۔۔
عباد کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے اسے ایک جگہ بتائی کہ وہاں مغرب کے بعد پہنچ جائے ۔۔۔صباء کو اندازہ ہوا کہ جگہ کچھ دور تھی اور شاید کوئی پارک ہو مگر مغرب کے وقت کون سا پارک کھلتا ہے۔۔۔شاید وہ اسے رش میں بلا کر بدنام نہ کرنا چاہتا ہو ۔۔۔
اگلے دن وہ اپنی فرینڈ کا بہانہ کرکے گھر سے نکلی اور آٹو والے کو پتہ سمجھاہا تو وہ چونکا
" بی بی وہاں تو پرانا قبرستان ہے آپ اس وقت قبرستان جائیں گی ۔۔۔"
".اررے چاچا آپ سے جو کہہ رہی ہوں وہ کریں۔۔۔"
آٹو والے نے اسے کسی قبرستان کے پاس اتار دیا انتہائی سنسان جگہ پہ ایک پرانا سا قبرستان تھا ۔۔۔وہ جگہ دہکھ کر ڈر گئی مگر عباد سے ملنے کی لگن اتنی حاوی تھی کہ اس نے جلدی سے کرایہ دیا اور آگے بڑھ گئی مگر قبرستان میں جانے کی اس کی ہمت نہ ہوئی۔۔۔کچھ دیر اس نے انتظار کیا کہ شاید عباد اسے خود لینے آئے مگر اس کی کال آنے لگی
" قبرستان کے اندر آجاؤ"
" کیا پاگل ہوگئے ہو اس وقت قبرستان میں ۔۔۔پلیز تم ہو کہاں یہاں آو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے "
وہ اب شدید خوف میں مبتلا ہوچکی تھی۔۔۔
" میں کہہ رہا ہوں نا کچھ نہیں ہوگا اندر آو ۔۔"
اس بار اس نے تھوڑا رعب سے کہا وہ اس کی ناراضگی کے خوف سے اندر کی طرف بڑھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔۔اور ماتھے پہ پسینہ آچکا تھا۔۔۔عباد اسے کال پہ گائیڈ کر رہا تھا ۔۔۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اسکی ہدایتیں سن کر جب ایک قبر کے پاس پہنچی ۔۔۔تو عباد کی آواز آئی ۔۔۔
".بس تم پہنچ گئی ہو یہیں رک جاؤ"
"ممم مگر تم کہاں ہو ۔۔۔"
وہ بس رو دینے کو تھی ۔۔۔اس نے کپکپاتی آواز سے پوچھا ۔۔۔تمہارے سامنے جو قبر ہے میں وہیں ہوں۔۔وہ یہ بات سن کر لرز گئی۔۔۔اس نے سامنے واالی قبر پہ لکھا نام پڑھا تو وہ پوری جان سے ہل گئ۔۔۔قبر پہ لکھا تھا
" عباد الرحمن ولد شفیق الرحمن "
اور لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق انتقال دو سال پہلے ہی ہوا تھا۔۔۔اسے لگا اس کا دل سینہ۔پھاڑ کر باہر آجائے گا ۔۔۔اس نے سوچا تیزی سے دوڑ کر باہر نکلے اسی لمحے کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور وہ لہرا کر بے ہوش ہوگئی۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔
Post a Comment