قسط 2
وہ جیسے کسی گہری نیند سے جاگ رہی ہو ۔۔۔جھینگروں کی آواز اس کی سماعت پہ بہت گراں گزر رہی تھی ۔۔۔اس سے آنکھیں کھولنا مشکل ہورہی تھیں۔۔۔اس نے سر دائیں بائیں پٹخا اور جب مشکل اسے آنکھ کھول پائی تو وہ رات کے اندھیرے میں کسی کچی زمین کے حصہ پے پڑی تھی ۔۔۔ہلکی زرد روشنی کسی دور لگے بلب کی اس کی آنکھوں پہ پڑی اس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا وہ زمین پہ ہاتھ جما کر اٹھ بیٹھی اور دوبارہ آنکھیں کھولیں تو ایک قبر کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔اسے ایک دم سب یاد آیا ۔۔۔
عباد۔۔۔عباد نے اسے یہاں بلایا تھا اور یہ قبر ۔۔۔وہ تیزی سے اٹھنے کے چکر میں ہلکان ہوگئی ۔۔اس کے اعصاب کمزور پڑ رہے تھے ۔۔۔یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔یہ قبر عباد کی کیسے ہوسکتی ہے ۔۔۔اگر وہ مرگیا تو پھر وہ کالز ۔۔وہ شخص کون ہے۔۔۔ایک دم اسے موبائل یاد آیا مگر موبائل کہیں نہیں تھا۔۔۔اس نے چکراتے سر سے کچھ یاد کیا تو اسے یاد آیا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔اس نے مڑ کر ہر جگہ نگاہ ڈالی ۔۔۔اس کے بال بکھر چکے تھے۔۔کپڑوں پہ مٹی لگی تھی۔۔۔موبائل کا نام و نشان نہ تھا۔۔۔
وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔مگر دو قدم چل کر اس کے قدم منجمد ہوگئے۔۔۔عباد کے برابر میں ایک خالی قبر تھی۔۔۔لیکن جس چیز کو دیکھ کر اس کی آنکھی پھٹیں اور دل باہر آنے لگا۔۔وہ اس خالی قبر کے سرہانے لگے سنگ مرمر کے ٹکڑے پہ لکھا وہ نام تھا۔۔۔
صباء حمید بنت حمید خان ۔۔۔اور آج کی تاریخ درج تھی۔۔وہ ایک دم پلٹی مگر سامنے اندھیرے میں کوئی تھا جس نے اسے دھکا دیا اور وہ سر کے بل قبر میں جا گری ۔۔۔اس نے چیخ مار کر اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک دم بہت ساری مٹی اس کی آنکھوں اور کھلے منہ سے اندر گئی اس نے مٹی تھوک کر آنکھیں صاف کیں ۔۔۔دوبارہ کھولنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر مٹی بہت تیزی سے اس پہ گر رہی تھی ۔۔۔وہ منہ کھولتی مٹی اس کے منہ میں جانے لگتی ۔۔۔آنکھیں کھولتی تو مٹی آنکھوں میں جاتی وہ چیخ بھی نہیں پارہی تھی ۔۔۔ہل بھی نہیں پارہی تھی مٹی کا بوجھ اس پہ بڑھتا جارہا تھا ۔۔۔بس چہرہ بچا تھا اور اب وہ بھی مٹی میں دب رہا تھا۔۔۔اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔اور جیسے اس کی جان اس کے جسم سے نکل گئی ہو۔۔۔
ہاسپٹل کے بیڈ پہ اس کا سر دائیں بائیں ہلتا دیکھ ۔۔نرس جلدی سے ڈاکٹر کو بلالائی ۔۔۔ڈاکٹرکے ساتھ اس کے بابا نے بھی اندر آنا چاہا مگر ڈاکٹر نے انہیں اجازت نہیں دی ۔۔۔اس کے بابا مما بھائی اور کچھ قریبی رشتہ دار سب ICU کے باہر تھے ۔۔۔صباء کو ہوش آگیا تھا ۔۔۔لیکن وہ اتنی ڈسٹرب تھی کہ ڈاکٹر نے اسے پھر سکون کی ادویات دے کر سلادیا تھا ۔۔۔
بابا نے باقی لوگوں کو گھر بھیج دیا تھا لیکن مما نہ مانیں وہ جائے نماز بچھا کر شکرانے کے نوافل پڑھنے لگیں۔۔۔بابا بینچ پہ بیٹھے سوچ رہے تھے ۔۔۔کہ جب انہوں نے 9 بجے صباء کا پوچھا تو اسکی مما نے کہا دوست کے گھر ہے ۔۔۔جس پہ بابا فکر مندہوئے یہ کون سا وقت ہے ۔۔مما بھی اندر اندر سے تو پریشان تھیں ۔۔بابا نے کہا
" کونسی دوست ہے کال کرو "
مما نے اس کی قریبی سہیلیوں کو کال کی تو سب نے منع کردیا کہ آنٹی صباء تو یہاں نہیں ہے۔۔اب دس بج چکے تھے اور سب گھر والے پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔بھائی ہاسپٹلز دیکھ آیا تھا ۔۔۔اب صرف پولیس اسٹیشن جانا رہ گیا تھا۔۔۔مما کا رو رو کر برا حال تھا اس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔اور پھر ساڑھے دس بجے بابا کے نمبر پہ کال آئی ۔۔۔کوئی رکشے والا تھا جس نے بتایا کہ ان کی بیٹی اس کے رکشے میں بے ہوش ہوگئی تھی اس کے موبائل سے نمبر لیا ہے اور وہ فلاں ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں ہے۔۔۔جب وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے تو رکشے والا وہاں موجود نہیں تھا ۔۔۔اور اب اسکا نمبر بھی بند تھا ۔۔۔نرس نے صباء کا موبائل انہیں دیا جو شاید بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکا تھا۔۔۔
اب یہ تو صباء ہی بتا سکتی تھی کہ ماجرا کیا ہے۔۔۔وہ کافی فکرند تھے اور خود کو ہی کوس رہے تھے کہ ہمارے لاڈ پیار نے ہماری اولاد کو کتنا آزاد کردیا ہے۔۔
تین دن ہوگئے تھے صباء کو گھر آئے ہوئے۔۔وہ بس ایک جگہ دیکھتی رہتی ۔۔اسے قبرستان میں گزرا ایک ایک لمحہ ،عباد کی قبر،کندھے پہ کسی کا ہاتھ رکھنا۔۔۔اسکا بے ہوش ہوجانا۔۔۔پھر ہاسپٹل کے بیڈ پہ ہوش میں آنے سے پہلے کا دیکھا گیا خواب بار بار تنگ کرتے۔۔۔وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر چیخنے لگتی ۔۔۔مما مسلسل اس کے روم میں رہنے لگی تھیں۔۔۔مگر اس سے کوئی سوال نہیں کرتا ۔۔۔ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا کہ اس پہ۔کسی قسم کا پریشر نہ ہو۔۔۔
" آنٹی میں آپ کو کب سے بتانا چاہ رہی تھی مگر ہمت نہیں ہوئی۔۔کچھ دن سے اسکی کسی عباد نامی لڑکے سے دوستی تھی۔۔۔ہم نے اسے بہت سمجھایا کہ کسی انجان سے رابطہ نہ کرو ۔۔۔مگر وہ مانی ہی نہیں۔۔ "
صباء کی دوست آج اس سے ملنے آئی تو کچھ دیر پہلے مما کے پاس بیٹھی ۔۔مما اپنی بیٹی کے بارے میں یہ سب جان کر بہت شرمندہ تھیں۔۔۔وہ رونے لگیں۔۔۔
".اور اس دن وہ عباد سے ہی ملنے جارہی تھی ۔۔ہم سب کو بہت خوشی خوشی بتایا تھا ۔۔۔اب پتہ نہیں ہوا کیا ۔۔۔"
مما نے روتے روتے کہا ۔۔۔
" وہ کچھ بتاتی بھی نہیں ۔۔۔ہم خود پوچھ نہیں سکتی ۔۔۔پتہ نہیں میری بچی کو کس کی نظر کھاگئی"
ندا صباء کے پاس بہت دیر بیٹھی مگر صباء نے اس سے کوئی بات نہ کی تھک کر وہ واپس آگئی۔۔۔
صباء کی مما نے ہمت کرکے اس کے بابا اور بھائی کو سب بتادیا ۔۔۔صباء کا بھائی عادل تو آپے سے باہر ہوگیا۔۔۔
" لے کر آئیں اس کا موبائل میں چھوڑوں گا نہیں اس لڑکے کو نمبر دیں اسکا ۔۔۔آپ لوگوں کو کہتا تھا ۔۔۔مگر میری کوئی سنتا ہی نہیں مہنگے مہنگے موبائل ۔۔۔اکیلی نکل جانا بہت ڈھیل دی تھی نا اب بھگتیں۔۔۔لوگ طرح طرح کی باتیں بنارہے ہیں۔۔"
ذیشان اور حیدر روز نائٹ ڈیوٹی کے لیئے ساتھ جاتے تھے ۔۔۔آج دیر ہونے کے سبب ذیشان نے اسے بائیک قبرستان والی روڈ پہ ڈالنے کو کہا ۔۔۔پرانا قبرستان آسیبی مشہور تھا اسلیئے یہ رستہ کوئی استعمال نہیں کرتا تھا ۔۔۔ہمیشہ حیدر ڈرتا تھا اور ذیشان اس کا مذاق اڑاتا تھا ۔۔۔آج واقعی دیر ہوگئی ۔۔۔حیدر کو ماننا پڑی ۔۔۔جیسے ہی وہ دونوں قبرستان کے سامنے سے گزرے ذیشان نے اسے گاڑی روکنے کو کہا
" ابے پاگل ہوگیا کیا یہاں کہاں رکوارہا "
حیدر نے بائیک ہلکی کی مگر روکی نہیں۔۔
" ابے میں کہہ رہا ہوں تو روک "
اس کے انداز پہ حیدر نے بائیک روکی تو اسے بھی گھٹی گھٹی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔۔ذیشان تیزی سے بائیک سے اترا ۔۔حیدر نے اسے روکا مگر وہ نہ مانا اور قبرستان کے اندر بھاگا ۔۔۔حیدر اسے روکتے روکتے خود بھی اس کے پیچھے لپکا۔۔۔
ان دونوں کے بھاگنے سے قبرستان میں شور اٹھا اور وہ جب چیخوں تک پہنچے تو ایک ادھ کھلی قبر میں ایک لڑکی گھٹی گھٹی چیخیں مار رہی تھی ۔۔۔
ذیشان اگے بڑھا مگر حیدر نے ہاتھ روکا ۔۔۔پر وہ نہیں رکا اور تیزی سے مٹی ہٹانے لگا۔۔۔مٹی ابھی لڑکی کے آدھے وجود پہ ہی پڑی تھی ۔۔۔حیدر اس کے ارادے دیکھ کر اس کی مدد کرنے لگا۔۔۔وہ لوگ لڑکی کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوچکے تھے ۔۔۔
حیدر بھاگ کر بائیک پہ لٹکی پانی کی بوتل لے آیا لڑکی کے منہ پہ ڈالی اسے کلیاں کروائیں پھر لڑکی بے ہوش ہوگئی۔۔۔
" ایک لڑکی جس کا نام زینب تھا اور وہ ایک فیس بک گروپ کی مشہور رائٹر تھی پرانے قبرستان میں آدھ کھلی قبر میں پائی گئی۔۔۔دو راہگیروں نے بروقت ایمبولینس بلواکر اسے ہسپتال پہنچایا ۔۔"
بابا کی عادت تھی وہ با آواز بلند خبریں پڑھتے تھے ۔۔۔صباء اب کافی بہتر ہوگئی تھی۔۔۔وہ نارمل ہوتی جارہی تھی۔۔۔مگر اس وقت بابا کے منہ سے یہ خبر سن کر اس نے جھپٹ کر بابا سے اخبار لیا ۔۔۔اور اخبار میں دی گئی قبرستان اور وہ کھلی قبر کی تصویریں دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔۔۔کھلی قبر کے برابر میں بنی قبر پہ لکھا ہوا نام واضح پڑھا جاسکتا تھا
Post a Comment